مریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے دو ہفتے قبل کہا تھا کہ انڈیا اور امریکہ کورونا وائرس کے خلاف ویکسین تیار کرنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ تاہم امریکی سیکریٹری خارجہ کا یہ بیان کسی کے لیے حیران کن نہیں تھا۔ دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر تین دہائیوں سے زیادہ عرصے کے دوران بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ویکسین تیار کرنے کا پروگرام چلا رکھا ہے۔ ماضی میں دونوں ممالک ڈینگی، آنتوں کی بیماریوں، انفلوئنزا اور ٹی بی کی روک تھام کے لیے کام کرتے رہے ہیں اور ڈینگی کے لیے ویکسین کی آزمائش کا مستقبل قریب میں منصوبہ بنایا گیا ہے۔ انڈیا کا شمار دنیا بھر میں ادویات اور ویکسین تیار کرنے والے سب سے بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔ یہاں تقریباً درجن بھر ویکسین تیار کرنے والی بڑی کمپنیاں اور کئی چھوٹے ادارے پولیو اور نمونیا سے لے کر خسرہ اور روبیلا جیسے امراض کے خلاف استعمال ہونے والی خوراک بناتی ہیں۔ اب نصف درجن سے زیادہ انڈین دوا ساز کمپنیاں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے ویکسین تیار کر رہی ہیں۔ جراثیم کش محلول اور سورج کی روشنی سے وائرس کے خاتمے کے دعووں کی حقیقت کیا ہے؟ کورونا کا ’کرشماتی علاج‘ جو وائرس سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟ کیا سائنسدان کورونا وائرس کی ویکسین ایجاد کر پائیں گے؟ کورونا کے بارے میں آپ کے سوال اور ان کے جواب کورونا وائرس کی ویکسین کب تک بن جائے گی؟ ان میں سے ایک سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا ہے اور یہ دنیا بھر میں ویکسین کی خوراک تیار اور فروخت کرنے کے معاملے میں تعداد کے حساب سے سب سے بڑی ویکسین ساز کمپنی ہے۔ تقریباً 53 سال سے دوائیں بنانے والی یہ کمپنی ہر سال ویکسین کی ڈیڑھ ارب خوراک تیار کرتی ہے۔ یہ تمام خوراک بنیادی طور پر مغربی ہند کے شہر پونے میں قائم دو مراکز میں تیار ہوتی ہیں۔ نیدرلینڈز اور جمہوریہ چیک میں بھی اس ادارے کے دو چھوٹے چھوٹے پلانٹس ہیں اور اس کمپنی میں تقریبا 7000 افراد کام کرتے ہیں۔ یہ کمپنی 165 ممالک میں تقریبا مختلف 20 ٹیکے یا وکیسین فراہم کرتی ہے۔ اس کی بنائی ہوئی 80 فیصد ویکسین برآمد کی جاتی ہیں جس کی اوسط قیمت 50 امریکی سینٹ فی خوراک ہے جو کہ دنیا میں سب سے سستی مانی جاتی ہے۔ اب اس کمپنی نے امریکی بایوٹک کمپنی کوڈاجینکس کے ساتھ شراکت قائم کی ہے تاکہ ایسی ویکسین تیار کی جا سکے جو کہ 'براہ راست تخفیف' کرتی ہو۔ دنیا بھر میں اس وقت کورونا سے بچاؤ کے لیے 80 سے زیادہ ویکسینز تیاری کے مختلف مراحل میں ہیں۔ یہ ویکسین بیماری پیدا کرنے والے وائرس کی قوت کو کم کر کے یا پھر اس کے نقصان دہ عوامل کو ختم کر کے بنائی جاتی ہے لیکن اس وائرس کو زندہ رکھا جاتا ہے۔ چونکہ لیب میں بیماری پھیلانے والے جرثومے کی قوت کم کر دی جاتی ہے، اس لیے اس سے کوئی بیماری پیدا نہیں ہوتی ہے اور اگر ہوتی بھی ہے تو بہت ہلکی پھلکی۔ سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ادار پوناوالا نے مجھے فون پر بتایا کہ ’ہم اپریل میں اس ویکسین کی جانوروں (چوہوں اور بندروں) پر آزمائش کا منصوبہ بنا رہے ہیں اور ستمبر تک ہم انسانوں پر اس کی تجربے شروع کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔‘ ادار پوناوالا کی کمپنی آکسفورڈ یونیورسٹی کی طرف سے تیار کی جانے والی ویکسین کی بڑے پیمانے پر پیداوار میں بھی شراکت دار ہے۔ اس ویکسین کو حکومت برطانیہ کی حمایت حاصل ہے۔ اس ویکسین کی بنیاد بن مانس میں پایا جانے والا وائرس بنے گا۔ جمعرات کو آکسفورڈ میں انسانوں پر کلینیکل ٹرائلز کا آغاز ہوا ہے اور اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو سائنسدانوں کو یہ امید ہے کہ ستمبر تک ویکسین کی کم از کم دس لاکھ خوراکیں تیار ہو جائیں گی۔ کورونا وائرس: کووڈ 19 کی ویکسین دریافت ہونے میں کتنا وقت لگے گا؟ آکسفورڈ میں جینر انسٹی ٹیوٹ چلانے والے پروفیسر ایڈرین ہل نے بی بی سی کے جیمز گیلیگر کو بتایا: 'یہ بات بالکل واضح ہے کہ رواں سال کے اواخر تک دنیا کو سینکڑوں لاکھ خوراکوں کی ضرورت ہوگی تاکہ اس وبائی مرض کا خاتمہ ہو سکے اور ہم لاک ڈاؤن سے باہر نکل سکیں۔' یہیں سے انڈیا میں ویکسین بنانے والوں کو دوسروں پر سبقت حاصل ہو جاتی ہے۔ صرف سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا میں 400 سے 500 ملین خوراک بنانے کی اضافی صلاحیت ہے۔ ادار پوناوالا کہتے ہیں: 'ہمارے پاس بہت صلاحیت ہے کیونکہ ہم نے اس میں سرمایہ کاری کی ہے۔' اس کے علاوہ اور بھی کمپنیاں ہیں۔ حیدرآباد کی کمپنی بھارت بائیوٹیک نے یونیورسٹی آف وسکانسن میڈیسن اور امریکی کمپنی فلوجین کے ساتھ شراکت کا اعلان کر رکھا ہے کہ وہ عالمی سطح پر تقیسم کے لیے 300 ملین خوراک تیار کرے گی۔ زائڈس کیڈیلا کمپنی دو ویکسین پر کام کر رہی ہے جبکہ بائیوولوجیکل ای، انڈین امیونولوجیکلز اور مائن ویکس نامی کمپنیاں ایک ایک ویکسین تیار کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ملکی سطح پر تیار کیے جانے والے چار پانچ ٹیکے ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے چیف سائنسدان سومیا سوامی ناتھن نے بتایا: 'اس کا سہرا کاروباری افراد اور دوا ساز کمپنیوں کے سر جانا چاہیے جنھوں نے معیاری مینوفیکچرنگ میں اور ایسے عمل میں سرمایہ کاری کی جس سے بڑی تعداد میں پیداوار ممکن ہوسکتی ہے۔ ان کمپنیوں کے مالکان کے سامنے ایک کامیاب کاروبار چلانے کے ساتھ ساتھ دنیا کے لیے اچھا کام کرنے کا بھی مقصد تھا اور یہ ایک ایسا ماڈل ہے جس میں دونوں کی جیت ہے۔' کورونا وائرس: 1000 برس پہلے ویکسین کا خیال کہاں سے آیا تھا؟ تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ لوگوں کو مارکیٹ میں ویکسین کی جلد دستیابی کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ لندن کے امپیریل کالج میں عالمی صحت کے پروفیسر ڈیوڈ نببارو کا کہنا ہے کہ انسانوں کو 'مستقبل قریب میں نظر آنے والی مدت تک' کورونا وائرس کے خطرے کے ساتھ زندگی گزارنا پڑے گا کیونکہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ اس کے لیے کوئی کامیاب ویکسین تیار ہو ہی جائے گی۔ اور یونیورسٹی آف ورمونٹ میڈیکل سینٹر میں ویکسین پر تحقیق کرنے والے ٹم لاہے نے خبردار کیا ہے کہ 'کورونا وائرس کی ویکسین کے متعلق فکرمند ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس سے مدافعتی نظام کو نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔' عالمی سطح پر کووڈ 19 کے انفیکشن سے پہلے ہی 25 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہو چکے ہیں اور ان میں سے پونے دو لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔ ایسے میں ایک محفوظ ویکسین تیار کرنا جو بڑے پیمانے پر تیار کی جائے اس کے لیے ایک مدت درکار ہے اور ایک دقت طلب معاملہ ہے کیونکہ اسے جاری کرنے سے قبل اس کے لیے ہر قسم کے افراد پر اس کی کیمیائی اور حیاتیاتی طور پر جانچ ہونی ہے۔ لیکن ادار پوناوالا کہتے ہیں: 'ہم پر امید ہیں کہ ہم دو سال یا اس سے کم عرصے میں محفوظ اور موثر ویکسین تیار کر لیں گے۔'
سابق آرمی چیف جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کا آخری سال شروع ہونے والا تھا، ملک میں اسامہ بن لادن کے خلاف کاروائی اور سلالہ حملے جیسے واقعات ہو چکے تھے، دہشتگردی کا ایک انتہائی سخت دور گزر چکا تھا مگر شہری اور سیکیورٹی فورسز اب بھی دہشت گردوں کے نشانے پر تھے۔
اس وقت کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف بڑے فوجی آپریشنز جاری تھے، خود بّری فوج بڑے پیمانے پر ارتقائی عمل سے گزر چکی تھی، مگر اس سب کے باوجود ملک کی مسلح افواج کی شہرت کا گراف نچلی سطح کو چھو رہا تھا۔
ایسے میں میجر جنرل کے عہدے پر تعینات عاصم سلیم باجوہ کو مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ یعنی آئی ایس پی آر کی سربراہی سونپی گئی۔ انھوں نے عوام میں فوج کے امیج کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا اور پھر جیسے تیسے اس ذمہ داری کو بخوبی نبھایا۔
یہ بھی پڑھیے
جب وہ آئی ایس پی آر سے رخصت ہوئے تو پاکستان کی مسلح افواج کی عوام میں مقبولیت اپنی بلندیوں کو چھو رہی تھی، اس کا اندازہ وہ لوگ بخوبی لگا سکتے ہیں جنھوں نے وہ مناظر دیکھے ہیں کہ جب سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی آمد ہوتی تو بہت دیر تک ہالز تالیوں سے گونجتے رہتے، آئی ایس پی آر بطور ایک ڈائریکٹوریٹ مکمل طور پر جدید ترین خطوط پر استوار ہو گیا تھا، اسے ففتھ جنریشن وار فیئر جیسی نئی اصطلاحات پر مبنی ذہنوں اور افکار کی جنگ کے لیے تیار کر لیا گیا تھا اور ’شکریہ راحیل شریف‘ جیسے ٹرینڈز تو اب بھی چلتے ہیں۔
جہاں آئی ایس پی آر کی سوشل میڈیا ٹیمز، فوج کے ہلال رسالے میں پالیسی سازی کی جھلک، جنگی نغموں، فلموں اور ڈراموں کا سہرا جنرل (ر) عاصم باجوہ کے سر ہے وہیں ان پر میڈیا کنٹرول کے الزامات بھی سامنے آئے جن کی ادارے کی جانب سے ہمیشہ تردید کی گئی۔
تاہم آج وہ ایک مرتبہ پھر خبروں کی زینت اس وقت بنے جب انھیں وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات تعینات کرنے کی خبر آئی۔
GETTY IMAGES
ایک طرف جہاں ان کی اس اہم عہدے پر تعیناتی کو سراہنے والے بڑی تعداد میں موجود ہیں اور اسے پی ٹی آئی کی حکومت کا ایک 'اہم اور ناگزیر فیصلہ' قرار دے رہے ہیں وہیں پی ٹی آئی کی مخالف جماعتیں تنقید بھی کر رہی ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کے ایک رہنما کے مطابق ’ایک فوجی ادارے کی ترجمانی اور سیاسی حکومت کی ترجمانی میں زمین آسمان کا فرق ہے، آنے والا وقت جنرل عاصم باجوہ کے لیے بڑے چیلنجز لائے گا۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئیر رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ ’اس تعیناتی سے بہت سے سوالوں کے جواب مل گئے ہیں جو موجودہ حکومت کی تشکیل کے وقت سے ہی سب کے ذہن میں تھے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’غالباً حکومت یہ تاثر بھی دینا چاہتی ہے کہ ادارے اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘
ابھی یہ واضح نہیں کہ شبلی فراز اور جنرل ر عاصم باجوہ کے ذمے کیا ٹاسک ہوں گے۔
واضح رہے کہ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے پاکستان ملٹری اکیڈمی کے 69ویں لانگ کورس سے ہے فارغ التحصیل ہونے کے بعد 34 پنجاب ریجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔
وہ بطور لیفٹیننٹ کرنل سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے اسسٹنٹ ملٹری سیکرٹری رہے۔ جنرل مشرف کی کتاب ’ان دی لائن آف فائر‘ کی تصنیف کے مرحلے میں انھوں نے مواد مرتب کرنے میں اہم کردار ادا کیا جس کا ذکر سابق صدرنے اپنی کتاب میں بھی کیا تھا اور اس کی تقریب رونمائی میں جنرل عاصم باجوہ کے لیے تالیاں بجوائی گئی تھیں۔
وہ جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی، جنرل (ر) پرویز مشرف اور پھر جنرل (ر) راحیل شریف کے نہایت قریب سمجھے جاتے تھے۔
قمر زمان کائرہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت میں متعدد ایسے عہدے ہیں جو ان افراد کے حوالے کیے گئے جو کبھی سابق صدر پرویز مشرف کے قریبی ساتھیوں کے پاس تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں کبھی ٹیکنوکریٹ گورنمنٹ کامیاب ہوئی ہے اور نہ ہی کسی اور شکل کی حکومت، کامیابی صرف جمہوریت کے نظام میں ہے۔
’لیکن جس انداز میں موجودہ حکومت جمہوریت چلانا چاہتی ہے یہ مکمل طور پر ناکام ہو گی۔‘
GETTY IMAGES
وہ کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت میں جمہوریت ’آدھا تیتر آدھا بٹیر‘ بن گئی ہے۔
کچھ یہی رائے مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چودھری کی بھی ہی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’عمران خان کے پاس اپنی ٹیم تھی ہی نہیں۔ اب ایسا لگتا ہے کہ کابینہ میں سب وہ لوگ ہیں جو سابق صدر پرویز مشرف کی ٹیم کا حصہ تھے اور یہی ان کی ناکامی ہے۔‘
قمر زمان کائرہ کے مطابق ’اس تعیناتی سے ان سوالوں کے جواب ملے ہیں کہ حکومت کس طرح چلائی جا رہی ہے، حکومت کیسے آئی ہے، ان سوالوں کے جواب اب کھل کر سامنے آرہے ہیں۔‘
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چودھری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن نے ہمیشہ ’وردی میں سیاست کی مخالفت کی ہے، یہ عاصم باجوہ کا حق ہے کہ اگر وہ سیاسی طور پر کسی سیاسی جماعت کے ترجمان بننا چاہتے ہیں تو ضرور بنیں۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ مگر انھیں بہت سے مشکل سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ یہ ’پی ٹی آئی نے ایک جوڑی بنائی ہے جس میں ایک سیاسی اور ایک پیشہ وارانہ شخص کو چنا گیا ہے۔‘
شبلی فراز کی تعیناتی سے متعلق بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’کم ازکم پہلی بار پی ٹی آئی ایسا چہرہ لائی ہے جو کہ حقیقی طور پر اس جماعت کی نمائندگی کرتا ہے، پہلی بار ان کے پرانے کارکنوں میں سے کسی کو یہ اہم سرکاری عہدہ دیا گیا ہے۔ یہ کم از کم ’فیس آف دی پارٹی‘ ہیں اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کی نسبت خاصے سلجھے ہوئے انسان ہیں۔‘
GETTY IMAGES
تاہم وہ سمجھتے ہیں کہ 'وردی میں ادارے کا ترجمان ہونا مشکل کام نہیں کیونکہ افسر کے پاس ادارے کا کشن ہوتا ہے، خاص موضوعات اور محدود سوالات ہوتے ہیں، سوال پوچھنے والے عام طور پر ترجمان سے سخت سوالات نہیں کرتے ہیں مگر اب پرفارمنس تو حکومت کی ہو گی لیکن جواب جنرل عاصم باجوہ نے میڈیا کو دینے ہوں گا۔‘
طلال چودھری کے مطابق ’حکومتی ترجمان کو یہ جواب دینا ہو گا کہ آٹے اور چینی کے بحران سے فائدہ اٹھانے والوں کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا ہے، انھیں یہ بھی جواب دینا ہو گا کہ ملک میں سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر رہنماؤں کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور سیلیکٹو احتساب کیوں کیا جا رہا ہے، اس لیے میرے خیال میں جنرل ر عاصم باجوہ کے لیے یہ نیا رول خاصا مشکل ثابت ہو گا۔‘
دوسری جانب جنرل عاصم سلیم باجوہ پاکستانی فوج میں ایک نہایت زیرک افسر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وہ بریگیڈیر کے طور پر ٹرپل ون بریگیڈ، منگلا کور میں چیف آف سٹاف، بطور میجر جنرل جی او سی ڈیرہ اسماعیل خان اور پھر جنوبی وزیرستان میں تعینات رہے۔
وہ مئی 2012 میں ڈی جی آئی ایس پی آر کے عہدے پر تعینات ہوئے اور دسمبر 2016 تک اسی عہدے پر رہے۔
آئی ایس پی آر میں وہ پہلے تھری سٹار افسر تھے جنھوں نے اس عہدے پر تقریباً سوا سال خدمات سرانجام دیں۔ کچھ مدت کے لیے موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے انھیں آئی جی آرمز تعینات کیا جس کے بعد وہ بطور کور کمانڈر سدرن کمان تعینات ہوئے۔
ان کے کریڈٹ پر آرمی پبلک سکول حملے کے بعد میڈیا منیجمنٹ کو خود فوج میں بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے انھیں سی پیک اتھارٹی کا سربراہ مقرر کیا اور اب انھیں خصوصی مشیر کا درجہ دیا گیا ہے۔
Comments
Post a Comment